Monday, 22 November 2021

سنبھالے ابر کرم تو سنبھل بھی سکتی ہے

 سنبھالے ابرِ کرم تو سنبھل بھی سکتی ہے

یہ دل کی شاخ ابھی پھول پھل بھی سکتی ہے

بجھاؤ مغربی آتش کی بڑھ کے چنگاری

کہ اس سے مشرقی تہذیب جل بھی سکتی ہے

عروج ظرف کی حد سے نکل نہ جائے کہیں

یہ شے فراز پہ جا کر پھسل بھی سکتی ہے

ہم آج زور محبت کا آزمائیں گے

سنا ہے رخ یہ ہوا کا بدل بھی سکتی ہے

یہ سرد سرد ہوائیں یہ چاندنی یہ فراق

تِرے لیے یہ طبیعت مچل بھی سکتی ہے

کسی پہ مرنے سے پہلے مجھے نہ تھا معلوم

کہ ایسے جینے کی حسرت نکل بھی سکتی ہے

قدم قدم پہ اجالوں کا اہتمام کرو

کہ چلتے چلتے کہیں شام ڈھل بھی سکتی ہے

کمالِ ضبط کو میرے مِرا خدا رکھے

یہ مفلسی مِرے ٹکڑوں پہ پل بھی سکتی ہے

خلوص، مہر و وفا، پیار اور محبت سے

بدل کے دیکھیۓ، دنیا بدل بھی سکتی ہے

ہری بھری سی رُتوں میں یہ ڈھل بھی سکتی ہے

خزاں کی زرد سی رنگت بدل بھی سکتی ہے

ادب کی شان بنوں آرزو یہ ہے زریاب

مگر یہ کیا مِری حسرت نکل بھی سکتی ہے


ہاجرہ نور زریاب

No comments:

Post a Comment