مِری قیمت لگانے کو انہیں بے کار لے آیا
محبت کی بجائے درہم و دینار لے آیا
نکالی پیار میں نفرت کی اس نے ایسے گنجائش
جہاں پر اینٹ بھی ممکن نہیں، دیوار لے آیا
ملی لوگوں سے مہنگی اور وہ بھی کھوکھلی، سو میں
خوشی خود گھر بنانے کے سبھی اوزار لے آیا
اکیلا کب رہا، تھی ایک وڈیو کال کی دوری
میں جب چاہا جسے چاہا سمندر پار لے آیا
نہتے گھر پہ ہونے جا رہی تھی خامشی قابض
خدا کا شکر میں آواز کی تلوار لے آیا
سخن کے چاک سے دیکھو لیا کیا کام عزمی نے
کہ اپنے بین گھڑ کے صورتِ اشعار لے آیا
عزم الحسنین عزمی
No comments:
Post a Comment