صفحات

Monday, 22 November 2021

اک بہانہ ہے تجھے یاد کئے جانے کا

 اک بہانہ ہے تجھے یاد کئے جانے کا

کب سلیقہ ہے مجھے ورنہ غزل گانے کا

پھر سے بکھری ہے تِری زلف مِرے شانوں پر

وقت آیا ہے گئے وقت کو لوٹانے کا

جس کی تعبیر عطا کر دے مجھے وہ زلفیں

کون کہتا ہے کہ وہ خواب ہے دیوانے کا

پینے والے تو تجھے آنکھ سے پی لیتے ہیں

وہ تکلف ہی نہیں کرتے ہیں پیمانے کا

کس قدر ہاتھ یہاں صاف نظر آتے ہیں

فیض کتنا ہے تِرے شہر پہ دستانے کا

آپ تو شعر میں مفہوم کی صورت ہوتے

لفظ ہوتا جو کوئی آپ کو پہنانے کا

اس کڑی دھوپ میں ہم ورنہ تو جل جائیں گے

وقت بسمل ہے یہی زلف کو لہرانے کا


طفیل بسمل

No comments:

Post a Comment