صفحات

Monday, 22 November 2021

سہمے سہمے ہوئے روکے ہوئے دم پھرتے ہیں

 سہمے سہمے ہوئے روکے ہوئے دم پھرتے ہیں

لوگ پھرتے ہیں کہ گلیوں میں الم پھرتے ہیں

خوف خنجر سے ہوئے جاتے ہیں پتھر مومن

سانس لیتے ہوئے کعبے میں صنم پھرتے ہیں

اس نے منہ پھیر کے پوچھا تو بتایا ہم نے

ہم کسی اور کا اوڑھے ہوئے غم پھرتے ہیں

کس کو معلوم کہ ہم تیری محبت کے اسیر

ہنس تو لیتے ہیں، مگر دیدۂ نم پھرتے ہیں

مر گئے بھوک سے کچھ لوگ کسی کو کیا ہے

شہر باقی ہے ابھی اہلِ کرم پھرتے ہیں

وہ ستارہ ہو جو آوارہ تو منظر دیکھیں

عمر گزری ہے اسی شوق میں ہم پھرتے ہیں


صدیق منظر

No comments:

Post a Comment