سہمے سہمے ہوئے روکے ہوئے دم پھرتے ہیں
لوگ پھرتے ہیں کہ گلیوں میں الم پھرتے ہیں
خوف خنجر سے ہوئے جاتے ہیں پتھر مومن
سانس لیتے ہوئے کعبے میں صنم پھرتے ہیں
اس نے منہ پھیر کے پوچھا تو بتایا ہم نے
ہم کسی اور کا اوڑھے ہوئے غم پھرتے ہیں
کس کو معلوم کہ ہم تیری محبت کے اسیر
ہنس تو لیتے ہیں، مگر دیدۂ نم پھرتے ہیں
مر گئے بھوک سے کچھ لوگ کسی کو کیا ہے
شہر باقی ہے ابھی اہلِ کرم پھرتے ہیں
وہ ستارہ ہو جو آوارہ تو منظر دیکھیں
عمر گزری ہے اسی شوق میں ہم پھرتے ہیں
صدیق منظر
No comments:
Post a Comment