صفحات

Monday, 22 November 2021

جنون عشق کی غارت گری نہیں نکلی

 جنونِ عشق کی غارت گری نہیں نکلی

جو دل میں پھانس چُبھی تھی ابھی نہیں نکلی

ہزار بار تِرے در تلک رسائی ہوئی

ہمارے دل سے مگر بُزدلی نہیں نکلی

ڈٹا ہوا ہے اُسی ایک بات پر اب تک

دلِ خراب! تِری خود سری نہیں نکلی

نہ جانے کس لیے تم بدگمان ہو مجھ سے

کوئی بھی بات زباں سے ابھی نہیں نکلی

حضور! آج بھی آیا نہیں پیامِ خلوص

بھڑاس آج بھی دل کی مِری نہیں نکلی

حضور! شام کے ہونٹوں پہ کیوں اُداسی ہے

حضور! آج بھی کیا چاندنی نہیں نکلی

گُلِ بہار کی صورت روِش روِش مہکی

حصارِ عشق سے باہر کبھی نہیں نکلی


گل رابیل

No comments:

Post a Comment