عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
علَم وفا کا لیے جو لشکر میں چل رہا ہے حسینؑ کا ہے
یہ کربلا سے بہت ہی پہلے جو تھل رہا ہے حسین کا ہے
ہَوا ہے آنکھوں سے خون جاری میں کربلا کو جو پڑھ رہا تھا
وہ دُور ٹیلے پہ ایک خیمہ جو جل رہا ہے، حسین کا ہے
عدو نبیﷺ کی جو آل کا ہے، علی کا دشمن، یزید پرور
یہ گفتگو میں تمہارے ماتھے جو بَل رہا ہے حسین کا ہے
وہ جس کے نانا کے واسطے سے عجیب ملتا ہے رزق تجھ کو
تو آج تک گویا جس بھی ٹکڑے یہ پَل رہا ہے حسین کا ہے
عجیب ساجد
No comments:
Post a Comment