صفحات

Tuesday, 23 November 2021

تو نے اس طور مری جان چھوا دروازہ

 تُو نے اس طور مِری جان چُھوا دروازہ

باغ و گلزار سے کمتر نہ رہا دروازہ

دل کی دہلیز پہ اشکوں کے ستارے ٹوٹے

اس نے دیکھا ہی نہ اس بار جلا دروازہ

اس کی آمد کے نشاں دیکھ نہ پائی اب تک

یہ الگ بات کہ سو بار کھلا دروازہ

تُو نے سمجھا نہ کبھی غور کیا ہے اس پر

دل کے آنگن میں کئی بار بنا دروازہ

میں کہ پتھر تھی مجھے اپنی خبر ہی کب تھی

ہاں مگر چُھو کے مجھے تُو نے کیا دروازہ

ساری دنیا میں عجب طور گدائی کی ہے

تب کہیں جا کے محبت کا ملا دروازہ

تیرے صدمے تو قیامت کے خسارے نکلے

غم نے آنکھوں میں کہیں ڈھونڈ لیا دروازہ

میں نے رابیل مروت کی ادا چھوڑی نہیں

وہ بھلے چھوڑ گیا دل کا کھلا دروازہ


گل رابیل

No comments:

Post a Comment