یہ چلتی پھرتی سی لاشیں شمار کرنے کو
بہت ہے کام سر رہگزار کرنے کو
گزر رہے ہیں بہ عجلت بہار کے ایام
پڑا ہے رخت بدن تار تار کرنے کو
گلے کی سمت مِرے اپنے ہاتھ بڑھتے ہیں
رہا ہی کیا ہے بھلا اعتبار کرنے کو
بدن کو چاٹ لیا ہے سیاہ کائی نے
ابھی تو کتنے سمندر ہیں پار کرنے کو
ابھی سے چاند ستاروں کی آنکھیں پتھرائی
پڑی ہے رات ابھی انتظار کرنے کو
سمجھ میں آ نہ سکی یہ ادا گلابوں کی
چمن میں آتے ہیں سینہ فگار کرنے کو
حامدی کاشمیری
No comments:
Post a Comment