درد کو تکیہ بنا،۔ ہجر گوارا کر لے
بات کو مان لے چُپ چاپ کنارہ کر لے
سنگ غیروں کے ہی چلنا کوئی دانائی نہیں
ہاتھ غیروں سے چُھڑا، بخت ستارہ کر لے
آدمی ایک ہی اچھا ہے زمانے بھر میں
جو محبت نہ کرے، یونہی گُزارا کر لے
ہر کسی سے نہ کئے جا یونہی پیماں شِکنی
کچھ نہ کچھ خوف خدا کا ہی خدارا کر لے
اپنا سب کچھ نہ لُٹا، کچھ تو بچا لے گوہر
کون کہتا ہے محبت میں خسارہ کر لے
گوہر فرید
No comments:
Post a Comment