صفحات

Saturday, 25 December 2021

کہنے کو مشت خاک ابابیل کا بدن

 کہنے کو مُشتِ خاک ابابیل کا بدن

چاہے تو چھید ڈالے یہی فیل کا بدن

خوگر طوافِ کرسئ یزداں کا کیوں نہ ہو

خامہ ہے میرا یہ نہیں جبریل کا بدن

شہ رگ پہ کوتوالِ جہنم مزاج ہے

پگھلے نہیں تو کیا کرے قندیل کا بدن

تاکہ فلک بھی دیکھے سراپا زمین میں

آئینے کی مثال کیا جھیل کا بدن

باالفرض تیری مثل کوئی لے بھی آئے تو

از ننگِ آب آب ہو تمثیل کا بدن

قابیل سے ہی کیوں ہو فقط پُرسشِ جفا

نِگلا ہے خاک نے بھی تو ہابیل کا بدن


عصمت اللہ نیازی

No comments:

Post a Comment