صفحات

Saturday, 25 December 2021

مساجد بیچ ڈالیں گے یہ قرآں بیچ ڈالیں گے

مساجد بیچ ڈالیں گے، یہ قرآں بیچ ڈالیں گے

یہ دولت کے پجاری ہیں یہ ایماں بیچ ڈالیں گے

چُنے ہیں باغباں جتنے، خیانت کار ہیں سارے

شجر بھی کاٹ لیں گے، یہ گلستاں بیچ ڈالیں گے

سُنو، اے قافلے والو! کوئی منزل نہیں آگے

یہ رہزن ہیں، تمہیں بشمول ساماں بیچ ڈالیں گے

 یہ آدم خور ہیں لوگو! ذرا بچ کر ہی تم رہنا

یہ چمڑی نوچ لیں گے اور ہڈیاں بیچ ڈالیں گے

یہ ہے دورِ خزاں صاحب! فقط مادہ پرستی ہے

ہیں جذبوں کے بیوپاری سب یہ انساں بیچ ڈالیں گے

غضب کے یہ لٹیرے ہیں محافظ ہیں جو راتوں کے

تمہارے چاند، تارے، صبحِ تاباں بیچ ڈالیں گے

جو مستقبل کے ضامن ہیں ہمارے نونہالوں کے

کھلونے توڑ دیں گے اور گڑیاں بیچ ڈالیں گے

مجھے تشویش ہے آثم جو حاکم ہیں، یہ تاجر ہیں

یہ ہر بچہ خریدیں گے، یہ ہر ماں بیچ ڈالیں گے


نثار آثم

No comments:

Post a Comment