صفحات

Saturday, 25 December 2021

بچپن تمام گزرا ہے تاروں کی چھاؤں میں

 بچپن تمام گزرا ہے تاروں کی چھاؤں میں

تتلی کے پیچھے جاتی تھی بادل کے گاؤں میں

گرمی کی تیز دھوپ میں پیپل کی چھاؤں میں

سونی بڑا سکون تھا چھوٹے سے گاؤں میں

منزل کی آرزو بھلا کرتے بھی کس طرح

کانٹے چبھے ہوئے تھے ہمارے تو پاؤں میں

جب دھوپ کے سفر سے وہ آئے گا لوٹ کر

اس کو بٹھا کے رکھوں گی زلفوں کی چھاؤں میں

اے دوست! راہِ عشق میں چلتی میں کس طرح

زنجیر ڈال رکھی تھی دنیا نے پاؤں میں


انیتا سونی

No comments:

Post a Comment