صفحات

Thursday, 2 December 2021

صدقے میں کیوں نہ جاؤں تخیل کے جال کے

 صدقے میں کیوں نہ جاؤں تخیل کے جال کے

بحر سخن سے لایا ہے موتی نکال کے

ہر حال میں شکست ہی مقدور ہے مرا

پھر کیا کروں وفا کا میں سکہ اچھال کے

کرتے ہیں وار دوست بہت سوجھ بوجھ سے

کھاتے ہیں دھوکہ ہم بھی بہت دیکھ بھال کے

چھوڑ آیا والدین کو اک اولڈ ہوم میں

قصے بہت سنے تھے کسی خوش خصال کے

سب تھے سپاہیوں کی مہارت کے معترف

دیکھے نہیں کسی نے کبھی زخم ڈھال کے

نوک قلم سے کرتے رہے زخم دل رفو

اشعار نے سکھائے ہنر اندمال کے

شازی کسی کی زہر فشانی سے یہ کھلا

رکھا تھا ہم نے آستیں میں سانپ پال کے


شہناز شازی

No comments:

Post a Comment