صدقے میں کیوں نہ جاؤں تخیل کے جال کے
بحر سخن سے لایا ہے موتی نکال کے
ہر حال میں شکست ہی مقدور ہے مرا
پھر کیا کروں وفا کا میں سکہ اچھال کے
کرتے ہیں وار دوست بہت سوجھ بوجھ سے
کھاتے ہیں دھوکہ ہم بھی بہت دیکھ بھال کے
چھوڑ آیا والدین کو اک اولڈ ہوم میں
قصے بہت سنے تھے کسی خوش خصال کے
سب تھے سپاہیوں کی مہارت کے معترف
دیکھے نہیں کسی نے کبھی زخم ڈھال کے
نوک قلم سے کرتے رہے زخم دل رفو
اشعار نے سکھائے ہنر اندمال کے
شازی کسی کی زہر فشانی سے یہ کھلا
رکھا تھا ہم نے آستیں میں سانپ پال کے
شہناز شازی
No comments:
Post a Comment