صفحات

Thursday, 2 December 2021

خیال تیرا شب و روز آئے جاتا ہے

 خیال تیرا شب و روز آئے جاتا ہے

تمہارا عشق ہے مجھ کو جو کھائے جاتا ہے

تیرے کوچے سے کوئی روز میرے گھر آ کر

ہمارے عشق کے قصے بتائے جاتا ہے

نیند کیا نیند کا تو نام بھی باقی نہیں ہے

خواب تجھ سے جدائی کا ڈرائے جاتا ہے

کہاں اب سوچنے سمجھنے کی قوت رہی ہے

تیرا ہی نقش یہ ذہن بنائے جاتا ہے

تمہارا نام لکھ کے آسماں پہ یہ بادل

تمہارے نام سے مجھ کو جلائے جاتا ہے

اندھیری رات کا اندھیر رات بھر آصف

جانِ جاں تیری ہی باتیں سنائے جاتا ہے

تمہارے بعد بھی مجھ کو خبر نہیں آصف

کون دروازۂ دل کو بجائے جاتا ہے


آصف میؤ

No comments:

Post a Comment