صفحات

Thursday, 2 December 2021

ہو جائے نہ غالب کہیں امکان پہ شک بھیج

 ہو جائے نہ غالب کہیں امکان پہ شک بھیج

جھوٹی ہی سہی دل کو تسلی کی کمک بھیج

تنہائی کے جوزخم ہیں مرجھانے لگے ہیں

پھر کوئی نیا عذر با اندازِ نمک بھیج

چھایا ہے تن و جان پہ سناٹا عجب سا

غم بھیج، الم بھیج، چبھن بھیج، کسک بھیج

دل ہے کہ تِرا قصد بھی کرنے سے ہے عاری

ضد بھیج، جنوں بھیج، ہوس بھیج، للک بھیج

آنکھوں نے کئی روز سے کھایا نہیں کچھ بھی

دوچار عدد تارے، اور اک مُشتِ فلک بھیج

مس کال‘‘ سے ہی کام چلاتا ہوں میں اکثر’’

گل پھینکتے ڈرتا ہوں سو دیتا ہوں مہک بھیج


تسلیم نیازی

No comments:

Post a Comment