صفحات

Saturday, 25 December 2021

شعر کب ہوتا ہے غزل کب ہوتی ہے

 شعر کب ہوتا ہے غزل کب ہوتی ہے

جب خون جلتا ہے پر نم آنکھ ہوتی ہے

بے ثباتیٴ جہاں کی پرواہ نہیں کرتے

جن کی تلخیوں میں صحرا کی پیاس ہوتی ہے

شام آغوشِ تنہائی میں سمٹ جاتی ہے

جب رات ڈرتے ڈرتے سحر ہوتی ہے

جب کوئی لمحہ چھیڑتا ہے دل کے تار

درد کی لہروں پہ چودویں کی رات ہوتی ہے

جب دوا کا سب اثر جاتا رہتا ہے

جب تکلیف میں ہی بس شفا ہوتی ہے


مبین نثار

No comments:

Post a Comment