شعر کب ہوتا ہے غزل کب ہوتی ہے
جب خون جلتا ہے پر نم آنکھ ہوتی ہے
بے ثباتیٴ جہاں کی پرواہ نہیں کرتے
جن کی تلخیوں میں صحرا کی پیاس ہوتی ہے
شام آغوشِ تنہائی میں سمٹ جاتی ہے
جب رات ڈرتے ڈرتے سحر ہوتی ہے
جب کوئی لمحہ چھیڑتا ہے دل کے تار
درد کی لہروں پہ چودویں کی رات ہوتی ہے
جب دوا کا سب اثر جاتا رہتا ہے
جب تکلیف میں ہی بس شفا ہوتی ہے
مبین نثار
No comments:
Post a Comment