بیٹھے ہوئے ہیں سوچ میں اظہار کیا کریں
رسوائیوں کا تذکرہ ہر بار کیا کریں
ملتا نہیں مسیحا کوئی مرض عشق کا
اب آپ ہی بتائیے بیمار کیا کریں
اونچی عمارتوں کے ہیں شوقین سب یہاں
ہم سادگی کا شہر میں پرچار کیا کریں
اعجاز ہر دوکان میں کانٹے سجے ملے
پھولوں کی خوشبوؤں کے خریدار کیا کریں
اعجاز قریشی
No comments:
Post a Comment