صفحات

Thursday, 2 December 2021

ابھی محبت مری نہیں ہے

 تمہاری یادیں کسی مسافر

کے ساتھ صحرا میں چل رہی ہیں

مگر مسافت کی اس تھکن سے

بہت ہی رنجور ہوگئی ہیں

کہ اپنے گھٹنوں پہ بیٹھ کر ہی

وہ ریت کے بے شمار ذروں کو

جلتے اشکوں سے ڈس رہی ہیں

انہیں سرابِ وصال کا بھی گماں نہیں ہے

کہ ہجر کا اک طویل طوفاں ہے بس نظر میں

کہ اتنے میں ہی مِری محبت کی تتلیاں ہیں

جو آ کے اشکوں کو چن رہی ہیں

تمہاری یادوں سے وہ مسلسل یہ کہہ رہی ہیں

ہمارا دامن ابھی نہ چھوڑو

ابھی محبت مری نہیں ہے

ہمارا دامن ابھی نہ چھوڑو

ابھی محبت مری نہیں ہے

 

فیضان قادر

No comments:

Post a Comment