وہ نظر آئے نرالی شان سے
محوِ نظارہ ہوئے حیران سے
آج کیا کہتی ہے قاتل کی نظر
جان سے مطلب ہے یا پہچان سے
خوب فرمایا دمِ عرضِ وفا
آپ فرماتے ہیں کیا احسان سے
کیا ہے دنیا میں ہماری زندگی
ہیں سرائے دہر میں مہمان سے
غیر ممکن اے نگاہِ دل نواز
ہو سبکدوشی تیرے احسان سے
تم میری ہر بات پہ کہتے ہو کیا
جان کر بنتے ہو کیوں انجان سے
ہم ہیں کیا؟ فرزانہ کیا اپنا کلام
شاعری ہے ذوق کے فیضان سے
فرزانہ غوری
No comments:
Post a Comment