Life's-sad-song
زندگی کے لب چوم لینے سے
خوشگوار لمحہ تا دیر غلام نہیں رہتا
کچھ سالوں کو سسکتا چھوڑ آنے کے بعد
وقت کی بدلتی آنکھوں میں
عمر کی ڈھلتی راتوں میں
سنبھالے گئے آنسو بھی تازگی کھو دیتے ہیں
زندگی اپنا گیت خود لکھتی ہے
بس آوازیں ہماری چُراتی ہے
وہ دُھن بجاتی ہے
جس پر خوشی اور غم
ایک ساتھ رقصاں ہوتے ہیں
ہمیں جھپٹ کر درد کو گلے لگانا آتا ہے
اُداسیوں کے ناز اُٹھانا آتا ہے
اور ہر سانس سے یہ آس باندھ دی جاتی ہے
خوشی خود چل کر آئے گی
حمیرا فضا
No comments:
Post a Comment