صفحات

Friday, 24 December 2021

زندگی کے لب چوم لینے سے

 Life's-sad-song


زندگی کے لب چوم لینے سے

خوشگوار لمحہ تا دیر غلام نہیں رہتا

کچھ سالوں کو سسکتا چھوڑ آنے کے بعد

وقت کی بدلتی آنکھوں میں

عمر کی ڈھلتی راتوں میں

سنبھالے گئے آنسو بھی تازگی کھو دیتے ہیں

زندگی اپنا گیت خود لکھتی ہے

بس آوازیں ہماری چُراتی ہے

وہ دُھن بجاتی ہے

جس پر خوشی اور غم

ایک ساتھ رقصاں ہوتے ہیں

ہمیں جھپٹ کر درد کو گلے لگانا آتا ہے

اُداسیوں کے ناز اُٹھانا آتا ہے

اور ہر سانس سے یہ آس باندھ دی جاتی ہے

خوشی خود چل کر آئے گی


حمیرا فضا

No comments:

Post a Comment