صفحات

Thursday, 2 December 2021

مستقل ایک عذاب ہے دنیا

 اک عذابِ غمِ دنیا تھا ہنر

شعر دنیا کو سناتے کب تک

ہم تو دنیا کے کبھی تھے ہی نہیں

تو بھلا اس سے نبھاتے کب تک

کسی وحشی کا خواب ہے دنیا

مستقل ایک عذاب ہے دنیا

ہوتی بے رنگ گر بھلی ہوتی

ہے غنیمت خراب ہے دنیا

ایسے بھی ہوتے ہیں سہارے

اک دریا اور تین کنارے

اس جہانِ کُہنہ میں ڈھونڈتا نیا کیا ہے

لوگ تک وہی ہیں سب ابر کیا ہوا کیا ہے

جال ہے یہ مکڑی کا اور کچھ نہیں، پھر بھی

ہاتھ کی لکیروں میں دیکھ تو لکھا کیا ہے

چاہتا میں بھی تھا کہ مر جاتا

مر کے یارو مگر کدھر جاتا

رات بیتی نہیں تھی صدیوں تک

ایک دن ایسا بھی گزارا تھا

یہ سیال، آبی رنگوں سے بنی تصویریں 

دیر تک ساتھ رہیں گی


پيرزادہ سلمان

No comments:

Post a Comment