صفحات

Thursday, 2 December 2021

ہوئی نہیں ابھی میرے مقام کی تشریح

 ہوئی نہیں ابھی میرے مقام کی تشریح

کٹیں گے ہاتھ تو ہو گی غلام کی تشریح

بوقتِ شام لبوں پر حروف چمکے تو

چراغ کرنے لگے تیرے نام کی تشریح

ہے استعارہ اداسی کا ڈوبتا ہوا دن

گھروں کو آتے پرندے ہیں شام کی تشریح

زبان رکھتا ہوں اور بول سکتا ہوں لیکن

یہ خامشی ہے تِرے احترام کی تشریح

کبھی وہ اپنے گریباں میں بھی ذرا جھانکیں

جو کر رہے ہیں حلال و حرام کی تشریح

اب آدھے رُخ سے نہ پردہ ہٹے تو اچھا ہے

یہ آدھا چاند ہے ماہِ تمام کی تشریح

بڑے نصیب سے پڑھتا ہے مقتدی کوئی

نماز ایسی کرے جو امام کی تشریح

تو کیا ضروری ہے ماتھے پہ ہاتھ بھی رکھوں

یہ میرا جھکنا بھی تو ہے سلام کی تشریح


جاوید عادل سوہاوی

No comments:

Post a Comment