صفحات

Saturday, 25 December 2021

عام لوگوں کو بھی دنیا یہ دکھا دی جائے

 عام لوگوں کو بھی دنیا یہ دِکھا دی جائے

اب مِرے جسم کی دیوار گِرا دی جائے

ہر طرف آؤ اُگاتے ہیں محبت کے گلاب

فصل نفرت کی عداوت کی جلا دی جائے

روز قانون میں ترمیم ہو اک میرے لیے

روز تعزیز نئی مجھ پہ لگا دی جائے

یہ قیامت بھی چلو کر کے پبا دیکھتے ہیں

ذات اپنی اسے پانے میں گنوا دی جائے

جرم یہ شہرِ محبت سے مٹانا ہے اگر

بے وفاؤں کو سرِ عام وفا دی جائے

ایک طوفان رگ و پے میں مچا دیتی ہے

دِل کی بستی میں کوئی اب نہ صدا دی جائے

جشن اب جیت کا چاہے تو منا لے وہ نعیم

مِری حالت مِرے دشمن کو بتا دی جائے


نعیم جاوید

No comments:

Post a Comment