لمحوں کو اداسی میں سمونا نہیں اچھا
تقدیر بگڑ جائے تو رونا نہیں اچھا
ہر ایک کو ہر رخ سے حقیقت نظر آئے
اس گھر میں کوئی ایسا کھلونا نہیں اچھا
جو لوگ سدا ظلم کے کانٹوں پہ پلے ہیں
ان کے لیے پھولوں کا بچھونا نہیں اچھا
پہلے بھی بہت اشک سنبھالے تھے مگر آج
موتی وہ ملے ہیں کہ پرونا نہیں اچھا
منظر بھی نفاست کے علمدار تھے لیکن
اب خون کے ان داغوں کو دھونا نہیں اچھا
جاوید منظر
No comments:
Post a Comment