صفحات

Saturday, 25 December 2021

لمحوں کو اداسی میں سمونا نہیں اچھا

 لمحوں کو اداسی میں سمونا نہیں اچھا

تقدیر بگڑ جائے تو رونا نہیں اچھا

ہر ایک کو ہر رخ سے حقیقت نظر آئے

اس گھر میں کوئی ایسا کھلونا نہیں اچھا

جو لوگ سدا ظلم کے کانٹوں پہ پلے ہیں

ان کے لیے پھولوں کا بچھونا نہیں اچھا

پہلے بھی بہت اشک سنبھالے تھے مگر آج

موتی وہ ملے ہیں کہ پرونا نہیں اچھا

منظر بھی نفاست کے علمدار تھے لیکن

اب خون کے ان داغوں کو دھونا نہیں اچھا


جاوید منظر

No comments:

Post a Comment