صفحات

Friday, 3 December 2021

دلوں سے ترک تعلق کا ڈر نکل جائے

 دلوں سے ترکِ تعلق کا ڈر نکل جائے

تِرا مزاج ذرا سا اگر بدل جائے

سبھی کے سامنے ہے اک ہجوم رشتوں کا

وہ کامراں ہے جو اس بھیڑ سے نکل جائے

اس ارتکابِ تمنا پہ کیا سزا دو گے؟

تمہارے قدموں پہ کوئی اگر مچل جائے

مِرے سلام کا رسماً بھی دیجیۓ نہ جواب

مِِری طرف سے کبھی ذہن اگر بدل جائے

سوائے اک تِرے چہرے کے بھول کر میں نے

اگر نگاہ اٹھائی ہو، آنکھ جل جائے


ہوش نعمانی

No comments:

Post a Comment