صفحات

Friday, 3 December 2021

تنہا جا کر بیٹھ گیا ہے جنگل میں

 تنہا جا کر بیٹھ گیا ہے جنگل میں

مجھ کو مجنوں دِکھتا ہے اس پاگل میں

ساتھ میں کیسے مر سکتے ہیں میری جاں

باقی ہے بس ایک ہی گولی پسٹل میں

اس کے گھر ٹھہرے تھے اس کے اپنے خاص

میرے جیسے ٹھہر گئے تھے ہوٹل میں

میرے یارو! ہجر کو دلدل فرض کرو

اور میں پورا ڈوب چکا ہوں دلدل میں

پورا مے خانہ ہی بُک کر لے ساقی

یار! ہمارا کچھ نہیں ہوتا بوتل میں

ان لوگوں سے بات نہیں کرنا ساحر

باتیں بدلا کرتے ہیں جو پل پل میں


شکیل ساحر

No comments:

Post a Comment