صفحات

Friday, 3 December 2021

عشق بے موت کبھی مرنے کہاں دیتا ہے

 عشق بے موت کبھی مرنے کہاں دیتا ہے

گھپ اندھیرے میں کئی روشنیاں دیتا ہے

لذتِ دردِ جگر راس اگر آ جائے

ہجر کے غم وہ بھلانے ہی کہاں دیتا ہے

تُو نے کچھ کرنا ہے تو دان محبت کر دے

ورنہ یہ درد ہمیں سارا جہاں دیتا ہے

چند لمحوں کی خوشی ہم کو ملے بھی تو کیا

دے اگر رونقِ گل ساتھ خزاں دیتا ہے

جانتا ہوں میں مجھے وہ بہا لے جائے گا

ڈوبنے آنکھ کا یہ پانی کہاں دیتا ہے

وہ ضرورت کی کوئی شے نہیں دیتا ہم کو

خام رائے ہے وہ ہر بات پہ جاں دیتا ہے

میرے ہونے سے زیادہ ہے یقیں اس پہ مجھے

اپنے بندوں کو سنا ہے وہ جناں دیتا ہے

یہ شرارے تو مِرے دل سے بھی اٹھتے ہیں سیف

تُو سمجھتا ہے کہ آدر ہی دھواں دیتا ہے


سیف علی عدیل

No comments:

Post a Comment