صفحات

Saturday, 25 December 2021

شجر سے کچا ثمر توڑ کر بہت رویا

 شجر سے کچا ثمر توڑ کر بہت رویا

میں جلد باز چمن چھوڑ کر بہت رویا

کھلونے خواب کے بیزار کرنے لگ گئے تھے

پھر اس کے بعد انہیں توڑ کر بہت رویا

جو قدردان نہ تھے ان کے سامنے اپنے

دکھوں کے آبلے میں پھوڑ کر بہت رویا

کہیں بھی جاتا میں لے کر یہ راستہ لیکن

دوبارہ اس کی طرف موڑ کر بہت رویا

شکستِ دل پہ نہیں آنکھ نم ہوئی جاذب

مگر یہ کرچیاں میں جوڑ کر بہت رویا


اکرم جاذب

No comments:

Post a Comment