شجر سے کچا ثمر توڑ کر بہت رویا
میں جلد باز چمن چھوڑ کر بہت رویا
کھلونے خواب کے بیزار کرنے لگ گئے تھے
پھر اس کے بعد انہیں توڑ کر بہت رویا
جو قدردان نہ تھے ان کے سامنے اپنے
دکھوں کے آبلے میں پھوڑ کر بہت رویا
کہیں بھی جاتا میں لے کر یہ راستہ لیکن
دوبارہ اس کی طرف موڑ کر بہت رویا
شکستِ دل پہ نہیں آنکھ نم ہوئی جاذب
مگر یہ کرچیاں میں جوڑ کر بہت رویا
اکرم جاذب
No comments:
Post a Comment