Saturday, 25 December 2021

زخم سینے پہ ترے غم کا سجایا ہوا ہے

 زخم سینے پہ تِرے غم کا سجایا ہوا ہے

بوجھ کاندھوں پہ محبت کا اٹھایا ہوا ہے

اور میں نہیں کرتا کبھی اپنی انا کا سودا

مصلحت ہے جو زرا سر کو جھکایا ہوا ہے

سچے جذبوں کی کسوٹی پہ پرکھنا مجھ کو

میں نے ہر عہد محبت کا نبھایا ہوا ہے

وہ جو الفت کا تعلق تھا سواب ٹوٹ چکا ہے

وہ جو اپنا تھا کبھی، آج پرایا ہوا ہے

چھوڑ کر جاؤں تو کیون بزمِ تمنا فیصل

خود سے آیا نہیں میں تم نے بلایا ہوا ہے


فیصل ودود

No comments:

Post a Comment