اگر تمہیں گناہ پر ملال ہے، کمال ہے
یہ کیفیت دلیلِ نیک فال ہے، کمال ہے
تمہارے گیسوؤں کو چومتی ہوئی ہوا لگی
ہر ایک زخم رو بہ اندمال ہے، کمال ہے
نہ جانے کتنے مرحلوں کے بعد منزل آئے گی
شروعِ عشق میں ہی تو نڈھال ہے، کمال ہے
وہ بے وفا جو پیکرِ وفا مجھے بنا گیا
اسے مِری وفا پہ احتمال ہے، کمال ہے
شراب عام آدمی کے واسطے روا نہیں
جنابِ شیخ کے لیے حلال ہے، کمال ہے
وہ قوم جس نے سر بلندیوں کی داستاں لکھی
وہ قوم آج مائلِ زوال ہے، کمال ہے
میں کون ہوں، کہاں سے آ بسا دیارِ میر میں
یہی تمہارا آخری سوال ہے، کمال ہے
عیوب پر جو انگلیاں اٹھائیں ہم نے اے سحر
تو آپ کی جبین پر جلال ہے، کمال ہے
سحر بلرامپوری
غلام جیلانی سحر
No comments:
Post a Comment