صفحات

Thursday, 2 December 2021

چاہا ہے اور کسی کو نہ ہی سوچا اب تک

 چاہا ہے اور کسی کو نہ ہی سوچا اب تک

ہاں مسلسل ہی تِرا خواب ہے دیکھا اب تک

پاس آئی نہ ہی منزل نے پکارا مجھ کو

تجھ سے بچھڑی ہوں تو ہے پیروں میں رستہ اب تک

حسرتیں، وحشتیں سینے سے لگا رکھی ہیں

ہے سروکار تِرے ہجر سے گہرا اب تک

چین آیا نہ تِرے بعد کہیں دل ٹھہرا

کوئی بھایا ہی نہیں اس کو ٹھکانہ اب تک

شام ڈھلتے ہی تِری یادیں چلی آتی ہیں

وحشتیں خوب لگاتی ہیں تماشا اب تک

جس کی لہروں میں بڑی شان سے میں ڈوبی تھی

ہر طرف ڈھونڈتا ہے مجھ کو وہ دریا اب تک

مت دکھا خواب محبت کے سحر تُو مجھ کو

پہلی ہجرت کا نہیں بھولی میں قصہ اب تک


سحر نورین

No comments:

Post a Comment