چاہا ہے اور کسی کو نہ ہی سوچا اب تک
ہاں مسلسل ہی تِرا خواب ہے دیکھا اب تک
پاس آئی نہ ہی منزل نے پکارا مجھ کو
تجھ سے بچھڑی ہوں تو ہے پیروں میں رستہ اب تک
حسرتیں، وحشتیں سینے سے لگا رکھی ہیں
ہے سروکار تِرے ہجر سے گہرا اب تک
چین آیا نہ تِرے بعد کہیں دل ٹھہرا
کوئی بھایا ہی نہیں اس کو ٹھکانہ اب تک
شام ڈھلتے ہی تِری یادیں چلی آتی ہیں
وحشتیں خوب لگاتی ہیں تماشا اب تک
جس کی لہروں میں بڑی شان سے میں ڈوبی تھی
ہر طرف ڈھونڈتا ہے مجھ کو وہ دریا اب تک
مت دکھا خواب محبت کے سحر تُو مجھ کو
پہلی ہجرت کا نہیں بھولی میں قصہ اب تک
سحر نورین
No comments:
Post a Comment