صفحات

Wednesday, 1 December 2021

ذکر آتا ہے تیرا ہر اک بات میں

 ذکر آتا ہے تیرا ہر اک بات میں

کیسے زندہ رہوں ایسے حالات میں

ایک صفحے پہ سارے نہ لکھ پاؤں گی

صدمے جتنے سہے ہجر کی رات میں

گھر کے سب کام یوں ہی پڑے رہتے ہیں

روٹی جل جاتی ہے اب خیالات میں

سب دُکانوں میں مہنگی خوشی مل رہی

اور غم مل رہے مجھ کو خیرات میں

رات دل کے سوالات میں کٹ گئی

اور دن میرا الجھا جوابات میں

شہر کے شہر تو ڈوبتے جا رہے

آگ بجھتی نہیں دل کی برسات میں

زہر تو لہجے میں آنا ہی تھا سحر

لوگ رہتے نہیں اپنی اوقات میں


سحر نورین

No comments:

Post a Comment