ذکر آتا ہے تیرا ہر اک بات میں
کیسے زندہ رہوں ایسے حالات میں
ایک صفحے پہ سارے نہ لکھ پاؤں گی
صدمے جتنے سہے ہجر کی رات میں
گھر کے سب کام یوں ہی پڑے رہتے ہیں
روٹی جل جاتی ہے اب خیالات میں
سب دُکانوں میں مہنگی خوشی مل رہی
اور غم مل رہے مجھ کو خیرات میں
رات دل کے سوالات میں کٹ گئی
اور دن میرا الجھا جوابات میں
شہر کے شہر تو ڈوبتے جا رہے
آگ بجھتی نہیں دل کی برسات میں
زہر تو لہجے میں آنا ہی تھا سحر
لوگ رہتے نہیں اپنی اوقات میں
سحر نورین
No comments:
Post a Comment