صفحات

Wednesday, 1 December 2021

نفرت ہی سہی رسم نبھانے کے لیے آ

 نفرت ہی سہی رسم نبھانے کے لیے آ

آ، آتش غم پھر سے جلانے کے لیے آ

پڑ جائے نہ جانے سے تِرے قصۂ غم سرد

احساس کی شدت کو بڑھانے کے لیے آ

گزرے ہوئے لمحوں نے حراست میں لیا ہے

تاریکیِ زنداں سے چھڑانے کے لیے آ

جل جاؤں نہ خود آج میں اس آتش غم سے

جذبات کے شعلوں کو بجھانے کے لیے آ

آ جائے نہ یادوں کے دریچوں سے کوئی اور

تنہائی کا احساس مٹانے کے لیے آ

ہر بار تو آ کر تِرا جانا ہی غضب تھا

اس بار تو آ کر ہی نہ جانے کے لیے آ


بسمل اعظمی

No comments:

Post a Comment