نفرت ہی سہی رسم نبھانے کے لیے آ
آ، آتش غم پھر سے جلانے کے لیے آ
پڑ جائے نہ جانے سے تِرے قصۂ غم سرد
احساس کی شدت کو بڑھانے کے لیے آ
گزرے ہوئے لمحوں نے حراست میں لیا ہے
تاریکیِ زنداں سے چھڑانے کے لیے آ
جل جاؤں نہ خود آج میں اس آتش غم سے
جذبات کے شعلوں کو بجھانے کے لیے آ
آ جائے نہ یادوں کے دریچوں سے کوئی اور
تنہائی کا احساس مٹانے کے لیے آ
ہر بار تو آ کر تِرا جانا ہی غضب تھا
اس بار تو آ کر ہی نہ جانے کے لیے آ
بسمل اعظمی
No comments:
Post a Comment