صفحات

Saturday, 25 December 2021

گھڑی گھڑی نئے چہرے بدل رہے ہیں ہم

 گھڑی گھڑی نئے چہرے بدل رہے ہیں ہم

نئی حیات کے سانچوں میں ڈھل رہے ہیں ہم

شبِ ستم کے اندھیرے میں شمع کی مانند

خود اپنی آگ میں صدیوں سے جل رہے ہیں ہم

ہزار وقت کے طوفاں نے ٹھوکریں ماریں

مگر چٹان کی صورت اٹل رہے ہیں ہم

نہ راہبر ہے کوئی اور نہ منزلوں کے نشاں

نہ جانے کس کے سہارے پہ چل رہے ہیں ہم

تمازت نگہِ یار کا کرشمہ ہے

کہ آج برف کی صورت پگھل رہے ہیں ہم

سجاؤ دار و رسن، لے کے آؤ زنجیریں

حدودِ صحنِ چمن سے نکل رہے ہیں ہم

ہمیں تلاش نہ کیجے عمل کی دنیا میں

اصول بن کے کتابوں میں پل رہے ہیں ہم


شاعر جمالی

No comments:

Post a Comment