غلط سمجھنا جسے تم، اسے غلط کہنا
کسی کے کہنے سے پتھر کو چاند مت کہنا
خود اپنی ذات بھی رکھنا نظر کے دھوکے میں
لگے جو آگ تو رنگوں کی مصلحت کہنا
عجیب دور تھا وہ بھی کہ دل کے افسانے
لرزتے کانپتے ہونٹوں کی معرفت کہنا
کہیں جو راہ میں ملنا اسے ہوا کی طرح
تو ایک بات میں احوال ان گِنت کہنا
اُجڑنے والے شجر کی حکایتیں ارشد
کوئی سُنے نہ سُنے تم بہر صفت کہنا
اقبال ارشد
No comments:
Post a Comment