صفحات

Thursday, 2 December 2021

ہم اس سے عشق کا اظہار کر کے دیکھتے ہیں

 ہم اس سے عشق کا اظہار کر کے دیکھتے ہیں

کیا ہے جرم تو اقرار کر کے دیکھتے ہیں

ہے عشق جنگ تو پھر جیت لیں چلو ہم لوگ

ہے دریا آگ کا تو پار کر کے دیکھتے ہیں

ہے کوہسار تو نہریں نکال دیں اس سے

ہے ریگزار تو گلزار کر کے دیکھتے ہیں

ہم اس کو دیکھنا چاہیں تو کس طرح دیکھیں

سو اس کی یاد کو کردار کر کے دیکھتے ہیں

وہ ہوش مند اگر ہے تو کر دیں دیوانہ

وہ بے خبر ہے تو ہشیار کر کے دیکھتے ہیں

ہمارے سر پہ تو آتی نہیں کوئی دستار

سو اپنے سر کو ہی دستار کر کے دیکھتے ہیں


اختر ہاشمی

No comments:

Post a Comment