صفحات

Thursday, 2 December 2021

اب تیغ کی باتیں ہیں نہ تلوار کی باتیں

 اب تیغ کی باتیں ہیں نہ تلوار کی باتیں

کرتے نہیں دیوانے بھی اب دار کی باتیں

ہر ہاتھ مسیحا ہے تو ہر گود ہے مریم

بیمار سمجھ لیتے ہیں بیمار کی باتیں

کہتے ہیں مگر غیر سے افسانۂ جاناں

جاناں سے کیے جاتے ہیں اغیار کی باتیں

پتے ہوئے سورج کے تلے اونگھتا بچہ

کرتے رہو اس سے گل و اشجار کی باتیں

پابندِ سلاسل ہے، اسے کھل کے سناؤ

زنجیر کے قصے، کبھی جھنکار کی باتیں

رکھ رکھ کے ترازو میں مِرا دفترِ اعمال

تولیں گے گنہ گار، گنہ گار کی باتیں

خاموشی میں پنہاں ہے مِرے درد کی آواز

باتوں سے علاوہ ہیں دلِ زار کی باتیں


طلعت فاروق

No comments:

Post a Comment