صفحات

Saturday, 25 December 2021

دریا کو اپنے پاؤں کی کشتی سے پار کر

 دریا کو اپنے پاؤں کی کشتی سے پار کر

موجوں کے رقص دیکھ لے خود کو اتار کر

سورج تِرے طواف کو نکلے گا رات دن

تُو آپ وقت ہے تو نہ لمحے شمار کر

ہابیل تیری ذات میں قابیل ہے مگر

اپنے لہو کو بیچ دے خواہش کو مار کر

اشکوں کے دِیپ بک گئے بازار میں تو کیا

عہدِ گِراں میں اپنے پسینے سے پیار کر

اک اور کربلا ہے تِرے در کے سامنے

اپنے لہو کو جیت لے بازی کو ہار کر

اک نسل کا وجود لہو کے نمو میں ہے

کچھ دیر خواب دیکھ ذرا انتظار کر


رشید نثار

No comments:

Post a Comment