صفحات

Saturday, 25 December 2021

ابر کیسے آتا ہے صبر کیسے آتا ہے

 ریت سے کبھی پوچھو

جلتے ہوئے صحرا پہ 

کتنی منتوں کے بعد 

ابر کیسے آتا ہے

اب تم کو کیسے بتلائیں

ہجر کے اسیروں کو

تنہا سرد راتوں میں

صبر کیسے آتا ہے


اشفاق صائم

No comments:

Post a Comment