سورج سے اپنے معرکے میں ہار تک گئے
وہ لوگ جو کہ سایۂ دیوار تک گئے
دل میں ہی خامشی سے کہیں مر گیا ہے عشق
قصے کسی کے حسن کے اخبار تک گئے
تعبیریں ڈھونڈتے ہوئے لوگوں کے درمیاں
سپنے ہزار لے کے ہم بازار تک گئے
جائیں کہاں یا جا کے ہم بیٹھیں کہاں اے دوست
اس شہر سے ہمارے تو آثار تک گئے
منزل کے واسطے یہاں کچھ اور چاہیۓ
جانے کو تنہا وقت کی رفتار تک گئے
میر تنہا یوسفی
No comments:
Post a Comment