صفحات

Saturday, 25 December 2021

ہم ان کو لائے راہ پر مذاق ہی مذاق میں

ہم ان کو لائے راہ پر مذاق ہی مذاق میں

بنے پھر ان کے ہمسفر مذاق ہی مذاق میں

پڑے رہے پھر ان کے گھر مذاق ہی مذاق میں

مزے سے ہو گئی بسر مذاق ہی مذاق میں

ہُوا جدّے میں جو اک مزاحیہ مشاعرہ

ہم آ گئے خدا کے گھر مذاق ہی مذاق میں

لطیفہ گوئی کا جو رات چل پڑا تھا سلسلہ

اُبل پڑے کئی گٹر، مذاق ہی مذاق میں

اٹھو کہ اب نمازِ فجر کے لیے وضو کریں

کہ رات تو گئی گزر، مذاق ہی مذاق میں

یہاں عنایت آپ کو مشاعروں کی داد نے

چڑھا دیا ہے بانس پر مذاق ہی مذاق میں


عنایت علی خان

No comments:

Post a Comment