جدھر خود گیا تھا لگا لے گیا
نہ جانے کدھر راستا لے گیا
پڑا تھا کہ بے کار کی چیز تھا
مجھے راہ سے کون اٹھا لے گیا
کوئی دے کے مجھ کو شعور حیات
مِرا دور صبر آزما لے گیا
گدا لے گیا کب مِرے در سے بھیک
صدا میرے لب کی چرا لے گیا
نہ پامال ہونے دیا صبر نے
گرے آنسوؤں کو اٹھا لے گیا
خرد ڈھونڈتی رہ گئی وجہ غم
مزا غم کا درد آشنا لے گیا
کالی داس گپتا رضا
No comments:
Post a Comment