Wednesday, 1 December 2021

جدھر خود گیا تھا لگا لے گیا

 جدھر خود گیا تھا لگا لے گیا

نہ جانے کدھر راستا لے گیا

پڑا تھا کہ بے کار کی چیز تھا

مجھے راہ سے کون اٹھا لے گیا

کوئی دے کے مجھ کو شعور حیات

مِرا دور صبر آزما لے گیا

گدا لے گیا کب مِرے در سے بھیک

صدا میرے لب کی چرا لے گیا

نہ پامال ہونے دیا صبر نے

گرے آنسوؤں کو اٹھا لے گیا

خرد ڈھونڈتی رہ گئی وجہ غم

مزا غم کا درد آشنا لے گیا


کالی داس گپتا رضا

No comments:

Post a Comment