Wednesday, 1 December 2021

سمجھنا چاہیے مجبوریاں اہل چمن کو

 مجبوری


سمجھنا چاہیے مجبوریاں اہل چمن کو سبز بیلوں کی 

نمو محتاج ہے جن کی ہمیشہ اک سہارے کی 

درختوں کے تنے دیوار پھاٹک یا منڈیریں ہوں 

پنپتی ہیں سہاروں پر تو یہ سرسبز رہتی ہیں 

سہارے چھوٹ جائیں گر 

تو پھر جینے کی مجبوری 

کسی نعم البدل کو ڈھونڈ لیتی ہے 

وگرنہ ان کی شادابی خزاں کی نذر ہوتی ہے 

محبت انس چاہت بھی انہیں کمزور بیلوں کے مشابہ ہیں 

انہیں بھی ہمنواؤں ہمنشینوں کے سہاروں کی ضرورت ہے 

سہارہ چھوٹ جائے 

تو انہیں بھی زندہ رہنے کے لیے 

نعم البدل درکار ہوتا ہے 

نہیں تو بِن سہارے دوستی رشتے مراسم انس چاہت اور تعلق 

کی یہ کومل سبز بیلیں سب خزاں کی نظر ہوں 

اور وقت سے پہلے ہی مر جائیں 


شہناز شازی

No comments:

Post a Comment