صفحات

Wednesday, 1 December 2021

کہاں کھوئی تھی تیری راہگزر لکھی ہے

کہاں کھوئی تھی تیری راہگزر لکھی ہے

دل کے اوراق پہ رودادِ سفر لکھی ہے

کسی گوشے میں دھری اب بھی ہے الماری میں

تیرے بارے میں وہ اک چِٹھی جو گھر لکھی ہے

رات بھر کرتے کے گھیرے پہ گِرا خون جِگر

داستاں پھر سے تِری دیدۂ تر لکھی ہے

چاندنی دھوکا تو چہرہ ہے فقط حسن نظر

لغت درد میں تقدیر قمر لکھی ہے

ہم قناعت کے بھکاری ہیں توکل کے فقیر

ہے بہت تیرے کرم کی جو نظر لکھی ہے

اس کے گلریز تبسم سے شروع ہو زیبا

اپنی قسمت میں کہاں ایسی سحر لکھی ہے


مسرت جبین زیبا

No comments:

Post a Comment